اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ژان پیر فیلیو نے اپنی نئی تحقیقاتی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ دسمبر میں غزہ کے علاقے مواصی میں ایک ماہ کے قیام کے دوران انہوں نے ایسے کئی واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے جن میں اسرائیلی حملوں کے بعد امدادی قافلوں کو لوٹ لیا گیا۔
فیلیو کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ان فلسطینی سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کیے جو خوراک اور دیگر امدادی اشیاء کے قافلوں کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان حملوں کے بعد ڈاکو گروہوں کو کھلی چھوٹ مل گئی اور قحط کے خطرے سے دوچار عوام کے لیے آنے والا سامان لوٹ لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آٹے اور صفائی کے سامان سے لدے 66 ٹرک جیسے ہی کرم ابو سالم گزرگاہ سے غزہ میں داخل ہوئے تو ان پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 20 ٹرک لوٹ لیے گئے۔ فیلیو کے مطابق ان حملوں میں ڈرون بھی استعمال کیے گئے جنہوں نے مقامی حفاظتی دستوں کو نشانہ بنا کر حملہ آور گروہوں کی مدد کی۔
اس کارروائی میں امدادی قافلے کی حفاظت پر مامور دو بااثر مقامی افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ اقوام متحدہ نے اگرچہ اس واقعے کو پہلے کی زیادہ بڑی لوٹ مار کے مقابلے میں “نسبتاً کم” قرار دیا، تاہم فیلیو کا کہنا ہے کہ اصل مقصد حماس اور اقوام متحدہ کو بدنام کرنا اور امدادی سامان کے ذریعے مخصوص گروہوں کو مضبوط کرنا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ کارروائی ایک ہدفی حملہ تھا جو ایک ایسی گاڑی پر کیا گیا جس میں مسلح افراد امدادی سامان کو غلط مقام پر منتقل کر رہے تھے۔
فیلیو کا کہنا ہے کہ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کے بعد کی دنیا کے لیے ایک سخت امتحان ہے، جو انسانیت کے ضمیر کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔
آپ کا تبصرہ